روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

غزہ میں قحط کا خدشہ تلخ حقیقت میں بدل چکا

غزہ میں قحط کا خدشہ تلخ حقیقت میں بدل چکا

لاہور(جدوجہد رپورٹ)غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جارحیت اور مسلسل ناکہ بندی کے نتیجے میں قحط اب محض خدشہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی معاونت سے قائم عالمی بھوک مانیٹرنگ کا ادارہ انٹی گریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (آئی پی سی) نے اپنی تازہ رپورٹ میں باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ غزہ شہر اور اس کے گرد و نواح میں قحط شروع ہو چکا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب اسرائیلی جنگی کارروائیاں، بار بار کی جبری نقل مکانی، اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سامان کی سخت پابندیاں فلسطینی عوام کو زندہ رہنے کے بنیادی وسائل سے محروم کر رہی ہیں۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق آئی پی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اس وقت 5لاکھ سے زائد افراد ’’تباہ کن حالات‘‘ میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ آئی پی سی کی درجہ بندی کی سب سے بلند سطح (لیول 5)ہے، جو بھوک، بدحالی اور موت سے عبارت ہے۔

غزہ گورنریٹ ،جس میں غزہ شہر شامل ہے، کی 30 فیصد آبادی قحط زدہ ہے، جبکہ مزید 50 فیصد آبادی ’’ایمرجنسی‘‘ سطح (لیول4) پر ہے۔شمالی غزہ کے حالات غزہ شہر سے بھی زیادہ خراب قرار دیے گئے ہیں لیکن ڈیٹا کی کمی کے باعث حتمی درجہ بندی نہیں ہو سکی۔

دیر البلح اور خان یونس میں ستمبر کے آخر تک قحط پھیلنے کا امکان ہے۔ اس وقت ان علاقوں کی بالترتیب 25 اور 20 فیصد آبادی پہلے ہی لیول 5 قحط کی فہرست میں شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق آئندہ سال جون تک5تا 6سال کی عمر کے 1لاکھ32ہزار بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو جائیں گے۔55ہزارحاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین فوری غذائی امداد کی محتاج ہوں گی۔25ہزارنوزائیدہ بچوں کو فوری طور پر غذائیت درکار ہوگی۔رفح گورنریٹ کا تجزیہ ممکن نہ ہو سکا کیونکہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں یہ علاقہ تقریباً خالی کرا لیا گیا ہے۔

آئی پی سی کے مطابق کسی بھی علاقے کو قحط زدہ قرار دینے کے لیے تین میں سے دو پیمانوں کا پورا ہونا ضروری ہے۔کم از کم 20 فیصد گھرانے شدید بھوک اور قحط کا شکار ہوں۔5 سال سے کم عمر کے 30 فیصد بچے شدید غذائی قلت میں مبتلا ہوں۔یومیہ کم از کم 2 اموات فی 10 ہزار افراد بھوک اور غذائی قلت کے نتیجے میں ہوں۔

رپورٹ کہتی ہے کہ غزہ میں یہ شرائط پوری ہو چکی ہیں اور اس لیے باضابطہ طور پر قحط کی تصدیق کی گئی ہے۔

آئی پی سی نے واضح کیا ہے کہ یہ قحط قدرتی نہیں بلکہ ’’انسانی ہاتھوں سے پیدا کردہ‘‘ ہے۔ اس کی چار بڑی وجوہات درج کی گئی ہیں۔اسرائیلی جنگ اور بمباری کے نتیجے میں 22 ماہ کے دوران 62ہزار فلسطینی شہید ہوئے۔ جولائی میں اوسط یومیہ اموات 119 تھیں جو جون کے مقابلے میں تقریباً دگنی ہیں۔جبری نقل مکانی کی وجہ سے جنگ کے آغاز سے اب تک 19لاکھ فلسطینی ایک سے زیادہ بار بے گھر ہو چکے ہیں۔ مستقل نقل مکانی نے خوراک کی فراہمی کو ناممکن بنا دیا ہے۔خوراک کے نظام کی تباہی کی وجہ سے غزہ کی 98 فیصد زرعی زمین تباہ یا ناقابل رسائی ہو چکی ہے۔ سمندری ماہی گیری پر مکمل پابندی عائد ہے۔

مارچ میں اسرائیل نے مکمل ناکہ بندی کر کے خوراک، پانی، ایندھن اور ادویات کی ترسیل روک دی تھی۔ اگرچہ بعد میں ناکہ بندی جزوی طور پر ہٹائی گئی، لیکن امدادی سامان کی ترسیل اب بھی نہایت محدود ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس صورتحال کو ’’انسانی المیہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ ’یہ قحط انسانوں کے پیدا کردہ حالات کی پیداوار ہے۔ یہ اخلاقی ناکامی اور انسانیت کی اجتماعی شکست ہے۔ اسرائیل کی بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ داری ہے کہ بطور قابض طاقت وہ خوراک اور ادویات کی رسائی کو یقینی بنائے۔‘‘

انہوں نے مزید کہاکہ ’قحط صرف خوراک کی کمی کا نام نہیں، یہ انسانی بقا ء کے پورے نظام کی بربادی ہے۔ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں، بچے دم توڑ رہے ہیں، اور جن پر ذمہ داری ہے وہ ناکام ہو رہے ہیں۔‘

انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے صدر ڈیوڈ ملی بینڈ نے بھی خبردار کیاکہ ’یہ نتائج عالمی برادری کے لیے وارننگ ہیں۔ فوری اور بلا رکاوٹ انسانی رسائی اور سیزفائر کے بغیر ہزاروں زندگیاں مزید بھوک اور بیماری سے ختم ہو جائیں گی۔‘

دوسری طرف اسرائیل نے آئی پی سی کی رپورٹ کو ماضی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ غزہ میں قحط موجود نہیں ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حالیہ ہفتوں میں غذائی اجناس کے ایک لاکھ ٹرک غزہ میں داخل ہو چکے ہیں۔ اجناس کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے اور بازاروں میں خوراک کی بھرمار ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ آئی پی سی نے کسی علاقے میں قحط کا اعلان کیا ہو۔ اس سے قبل 2011 میں صومالیہ میں قحط کی تصدیق کی گئی تھی۔2017 اور 2020 میں جنوبی سوڈان کو قحط زدہ قرار دیا گیا۔2024 میں سوڈان میں بھی یہی اعلان کیا گیا۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں