روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

فرش نومیدیئ دیدار

فرش نومیدیئ دیدار

فیض احمد فیض

دیکھنے کی تو کسے تاب ہے لیکن اب تک
جب بھی اس راہ سے گزرو تو کسی دکھ کی کسک

ٹوکتی ہے کہ وہ دروازہ کھلا ہے اب بھی
اور اس صحن میں ہرسو یونہی پہلے کی طرح

فرش نومیدیئ دیدار بچھا ہے اب بھی
اور کہیں یاد کسی دل زدہ بچے کی طرح

ہاتھ پھیلائے ہوئے بیٹھی ہے فریاد کناں
دل یہ کہتا ہے کہیں اور چلے جائیں جہاں

کوئی دروازہ عبث وا ہو، نہ بے کار کوئی
یاد فریاد کا کشکول لیے بیٹھی ہو

محرم حسرت دیدار ہو دیوار کوئی
نہ کوئی سایہئ گل ہجرت گل سے ویراں

یہ بھی کر دیکھا ہے سو بار کہ جب راہوں میں
دیس پردیس کی بے مہر گزر گاہوں میں

قافلے قامت و رخسار و لب و گیسو کے
پردہئ چشم پہ یوں اترے ہیں بے صورت و رنگ

جس طرح بند دریچوں پہ گرے بارش سنگ
اور دل کہتا ہے ہر بار چلو لوٹ چلو

اس سے پہلے کہ وہاں جائیں تو یہ دکھ بھی نہ ہو
یہ نشانی کہ وہ دروازہ کھلا ہے اب بھی

اور اس صحن میں ہرسو یونہی پہلے کی طرح
فرش نومیدیئ دیدار بچھا ہے اب بھی

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں