علی کھوسو
محنت کش خواتین کے عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر میں خواتین کے حقوق، برابری اور آزادی کے لیے کی جانے والی جدوجہد کو یاد کیا جاتا ہے۔ سندھ سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں ایسے لوگ بھی پیدا ہوئے جنہوں نے مشکل اور قدامت پسند سماجی حالات کے باوجود خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ انہی شخصیات میں ایک اہم نام کامریڈ رؤف کھوسو کا بھی ہے، جنہوں نے قبائلی سماج کی سخت روایات کے باوجود خواتین کے حقوق اور آزادی کے لیے بہادری کے ساتھ جدوجہد کی۔
شمالی سندھ کے ضلع شکارپور کے ایک قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے ترقی پسند اور بائیں بازو کے خیالات سے وابستہ نوجوان کامریڈ رؤف کھوسو جب 1998ء کے لگ بھگ سماجی میدان میں آئے تو اس وقت کا معاشرہ خواتین کے حوالے سے انتہائی قدامت پسند تھا۔ کسی عورت کا بغیر کسی مرد کے گھر سے باہر نکلنا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا، اور کاروکاری کے نام پر خواتین کے قتل عام کے واقعات عروج پر تھے۔ خواتین کے حقوق کی بات کرنا بھی کئی لوگوں کے لیے ناقابل قبول تھا۔
ایسے جابر سماجی ماحول میں کامریڈ رؤف کھوسو نے ایک باہمت اور نظریاتی طور مضبوط نوجوان کی حیثیت سے میدان میں قدم رکھا۔ انہوں نے اپنی جدوجہد کا آغاز ضلع شکارپور کے دور دراز گاؤں اللہ بخش کھوسو سے کیا، جسے اس زمانے میں ٹنڈو بہار کے قریب ہونے کی وجہ سے ٹنڈو بہار کہا جاتا تھا۔ اس گاؤں کو اللہ بخش کھوسو کے نام سے پہچان دلانے میں بھی کامریڈ رؤف کھوسو کا اہم کردار رہا۔
اس دور میں ٹنڈو بہار مذہبی حلقوں کا ایک مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا ،جہاں خواتین کے حقوق کی بات کرنا اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھانا آسان نہیں تھا۔ تاہم اس تمام سماجی دباؤ اور مخالفت کے باوجود کامریڈ رؤف کھوسو نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی جدوجہد جاری رکھی۔
انہوں نے خواتین کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سب سے اہم ذریعہ تعلیم کو سمجھا۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اس جدوجہد کا آغاز اپنے گھر سے کیا اور اپنی بیٹی کو اسکول میں داخل کروایا۔ آج وہ اپنے خاندان کی پہلی گریجویٹ بن چکی ہے، جو اس نظریے اور جدوجہد کی ایک روشن مثال ہے۔
اسی نظریے کو عملی شکل دیتے ہوئے انہوں نے گاؤں میں شام کے وقت لڑکیوں کے لیے تعلیمی کلاسیں شروع کروائیں، جہاں وہ خود اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر بچیوں کو پڑھاتے تھے۔ اس زمانے میں دیہی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی، مگر انہوں نے تعلیم کو سماجی تبدیلی کی بنیاد سمجھتے ہوئے اس مشن کو جاری رکھا۔
اسی دوران ایک اہم واقعہ پیش آیا۔ ایسے ماحول میں ایس ایس پی شکارپور ثناء اللہ عباسی کی جانب سے ایک بااثر جاگیردار کے گاؤں میں کاروکاری کے خلاف ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس سیمینار میں خواتین کے حقوق اور اس ظالمانہ رسم کے خاتمے پر گفتگو ہونی تھی، لیکن وہاں موجود لوگوں میں سے کوئی بھی کھل کر بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ایسے میں کامریڈ رؤف کھوسو ان چند لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے ہمت کے ساتھ آگے بڑھ کر نہ صرف اس مسئلے پر بات کی بلکہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے واضح اور جراتمندانہ موقف پیش کیا۔
اس کے بعد کامریڈ رؤف کھوسو ضلع شکارپور کے ہر چھوٹے بڑے گاؤں اور شہر میں خواتین کے حقوق کے لیے ایک مضبوط آواز بن کر سامنے آئے۔ وڈیروں، سرداروں اور بعض مذہبی حلقوں کی شدید مخالفت کے باوجود انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور اپنی جدوجہد جاری رکھی۔
اپنی جدوجہد کو مضبوط بنانے کے لیے انہوں نے ہم خیال ساتھی تلاش کرنا شروع کیے۔ اس سلسلے میں کھوسہ قبیلے کے سرداری خاندان سے تعلق رکھنے والے میر ذاکر حسین کھوسو کے علاوہ مصطفی بلوچ، حسین، مجاہد بھٹو، مختیار میمن، کرم منگی، لیاقت بھٹو، برکت انصاری، ساگر محمد حسین مہر، الطاف مگسی، جمیل ایوب مہر، ہاشم بلوچ اور دیگر ساتھی بھی شامل ہوئے، جنہوں نے خواتین کے حقوق اور سماجی انصاف کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔
کامریڈ رؤف کھوسو اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں کے نتیجے میں اس دور میں ضلع شکارپور کے دیہی علاقوں میں چودہ خواتین کی سماجی تنظیمیں قائم ہوئیں۔ ان تنظیموں کی قیادت کرنے والی خواتین نے اپنے حقوق کے لیے بھرپور آواز اٹھائی اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں اپنی جدوجہد کا لوہا منوایا۔
ان جدوجہدوں کے نتیجے میں ضلع شکارپور کی خواتین آہستہ آہستہ گھروں سے نکل کر سماجی، تعلیمی اور معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگیں۔ آج ان کوششوں کا نتیجہ ہے کہ شکارپور کی خواتین مختلف شعبوں میں آگے بڑھ رہی ہیں اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں بھی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
کامریڈ رؤف کھوسو کی جدوجہد صرف سندھ تک محدود نہیں رہی بلکہ انہوں نے بلوچستان کے جعفرآباد، نصیرآباد اور سبی جیسے قبائلی علاقوں میں بھی خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کی اور وہاں کی خواتین کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آج بھی ان علاقوں کے لوگ ان کی خدمات کو یاد کرتے ہیں۔
کامریڈ رؤف کھوسو کی طرف سے خواتین کے حقوق اور آزادی کے لیے شروع کی گئی جدوجہد کو ان کے ساتھی کسانوں کی تحریک ہاری جدوجہد کمیٹی کے ذریعے آگے لے کر چل رہے ہیں۔ کامریڈ کے علاقے میں اب اگر کسی عورت، لڑکی یا بچی سے کسی بھی قسم کی زیادتی ہوتی ہے تو ان کے ساتھی پہلی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ جو کام انہوں نے خواتین کو تعلیم دلانے کے لیے شروع کیا تھا، وہ اب ہر گاؤں اور گلی تک پھیل چکا ہے، اور ہر گاؤں کی بچیاں تعلیم کی طرف راغب ہو رہی ہیں۔ کامریڈ کی یہ کوشش اب حقیقت کا روپ اختیار کر چکی ہے۔
محنت کش خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کامریڈ رؤف کھوسو جیسے کرداروں کو یاد کرنا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ سماجی برابری، انصاف اور انسانی وقار کی جدوجہد چند باہمت لوگوں کی مسلسل محنت اور قربانیوں سے آگے بڑھتی ہے۔ ایسے کردار معاشرے کے لیے امید کی کرن ہوتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو بھی حق اور انصاف کی راہ پر چلنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔