لاہور(جدوجہد رپورٹ) معروف ترقی پسند سیاسی و سماجی شخصیت ، شاعر اور مصنف شیرین یار یوسفزئی وفات پا گئے۔ ان کی آخری رسومات اور تدفین 28جون کو ان کے آبائی گاؤں میں کی گئی۔ شیرین یار یوسفزئی کو اس وقت ملک بھر میں شہرت ملی، جب انہوں نے 13اپریل2017کو ایک جرات مندانہ اقدام کرتے ہوئے مشال خان کی آخری رسومات کی ادائیگی کے دوران حفاظت کا ذمہ اٹھایا۔
مشال خان عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کا ایک طالبعلم تھا ۔ اپنے ترقی پسند نظریات ، یونیورسٹی انتظامیہ کی کرپشن اور تعلیم دشمن پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کی بنیاد پر مشال خان کو توہین مذہب کا مرتکب قرار دے کر ہجوم کے ہاتھوں بدترین تشدد کر کے قتل کروا دیا گیا تھا۔ مشال خان کی میت کو آبائی گاؤں لایا گیا تو مساجد سے اعلانات کیے گئے کہ مشال خان کی نمازجنازہ جو بھی پڑھائے گا وہ کافر اور مرتد ہوگا۔ ایسے ڈر اور خوف کے ماحول میں شیرین یار یوسف زئی اپنی خاندان بندوق اٹھائے کئی کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے مشال خان کے گھر پہنچے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ یہ یقینی بنایاکہ مشال خان کی آخری رسومات عزت اور احترا م کے ساتھ ادا کی جائیں۔
اس وقت انہوں نے وائس آف امریکہ کی پشتو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘اگر اس روز مشال خان کی نماز جنازہ نہ ہوتی، تو انسانیت کا جنازہ نکلنا تھا۔’
شیرین یار یوسفزئی اپنے علاقے کے مشہور شاعر، ادیب اور سیاسی و سماجی رہنما تھے۔ وہ سیاسی طور پر عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ رہے۔ پشتون شہری حقوق کی سب سے مقبول تحریک پشتون تحفظ موومنٹ کے سرکردہ رہنماؤں میں بھی شامل رہے۔ وہ زروبی گاؤں سے تعلق رکھتے تھے، جو مشال خان کے گاؤں زیدہ سے 19کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
20ویں صدی کے اوائل میں زروبی اور اس سے متصل زیدہ اور مرغز کے دیہات خدائی خدمتگار تحریک کا مرکز بنے۔ یہ ایک اصلاحی تحریک تھی، جس کی قیادت خان عبدالغفار خان(باچا خان) کر رہے تھے۔ اس تحریک کا مقصد پشتونوں میں تعلیم کو فروغ دینا اور عدم تشدد کا پیغام عام کرنا تھا۔ اسی تعلیمی ایجنڈے کے تحت گاؤں میں ایک اسکول قائم کیا گیا، جو آج بھی باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت چل رہا ہے۔
ترقی پسند طلبہ تنظیم آر ایس ایف کے مرکزی آرگنائزر اویس قرنی نے شیرین یار یوسفزئی کی وفات پر لکھا کہ 13 اپریل 2017ء ایک تاریخی المیے کا دن ہے۔ اس درندگی اور وحشت کے مناظرسے آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہر دل میں تکلیف تھی۔ ہر ماں کی آنکھ اشکبار تھی۔ ایک بے بس باپ کے سامنے پورا معاشرہ شرمندہ تھا۔ مشال خان کے والد اقبال لالہ ہمت و استقامت کا استعارہ بنے۔ اس طرح شیرین یار یوسفزئی کی غیر معمولی بہادری و جرات نے بربریت کے سامنے ڈٹ جانے کی بھی تاریخ رقم کی کہ جب وحشت کی کالی آندھی معاشرے پر آسیب کی طرح چھائی تھی تو شیرین یار نے اپنی خاندانی رائفل کے زور پر مشال خان کا جنازہ کروایا۔ یہ ایک غیر معمولی اقدام تھا جو نہایت اہمیت کا حامل تھا۔ وہ مشال خان سے کبھی ملا نہیں تھا۔ شاعری کے شغف کی وجہ سے اس کے والد سے معمولی واقفیت تھی۔ لیکن اس کو یہ اندازہ بہرحال ضرور تھا کہ ذاتی اور سیاسی رنجشوں کی بنیاد پر گستاخی جیسے سنگین الزام کو استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
شیرین یار جب جنازے کی غرض سے صوابی کے قریب ایک گاؤں میں مشال خان کے گھر پہنچے تو یہ قیامت زدہ گھر بالکل اجڑا ہوا اور سنسان تھا۔ علاقے کے مولویوں نے اعلان کر رکھے تھے کہ جو جنازہ کرائے گا یا پڑھے گا کفر کا مرتکب ہو گا اور نکاح ٹوٹ جائیں گے۔ وہی سارے اعلامیے جو رجعتی اور وحشی ملائیت ہمیشہ دیتی آئی ہے۔ صرف چار لوگوں پر محیط مشال خان کا جنازپڑھا گیا۔ جس کی حفاظت پر عقیدتاًسر جھکائے اور مضبوطی سے رائفلیں تھامے شیرین یار اور ان کے ایک دوست معمور تھے۔ جس کی امامت کے لئے کوئی میسر نہ تھا۔ ایک اجنبی شخص، شاہ ولی، نجانے کیسے اور کیونکر اس فریضے کے لئے تیار ہوا۔ گلی کی کسی نکڑ پر ایک بے گھر انسان یہ سب دیکھ رہا تھا جو اچانک اٹھا اور گلیوں میں ایک طرف سے دوسری طرف دوڑتے ہوئے اعلان کرتا گیا اور لوگوں کو جنازے میں شرکت کی دہائی دیتا رہا جس سے لوگوں کی ہمت بندھی اور وہ اس جنازہ میں شریک ہونے لگے۔
شیرین یار نے اس وقت کہا تھا کہ ’’کہا جاتا ہے میرے اقدام نے لوگوں کی ہمت بڑھائی۔ مجھے اس کا نہیں پتہ! لیکن میں اس دن ایک جنازے میں شرکت کے لئے گیا تھا۔ سو میں نے کی۔‘‘
اویس قرنی لکھتے ہیں کہ تاریخ میں افراد کا کردار اس طرح اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ بعض اوقات افراد کی غیر معمولی جرات معاشروں کو جھنجوڑ دیتی ہے۔