روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

مظفرآباد اسمبلی: ایک مدت میں چوتھا وزیراعظم، مسئلہ چہروں کا یا بدلنے والوں کا؟

مظفرآباد اسمبلی: ایک مدت میں چوتھا وزیراعظم، مسئلہ چہروں کا یا بدلنے والوں کا؟

حارث قدیر

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ آج ہوگی۔ پہلے سے ہی طے ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے نامزد کردہ فیصل ممتاز راٹھور آئندہ چند ماہ کی مدت کے لیے وزیراعظم منتخب کر لیے جائیں گے۔ یہ تحریک عدم اعتماد جمعہ کے روز تقریباً ایک ماہ کی تیاری کے بعد بالآخر جمع کروائی گئی تھی۔ 53کے ایوان میں 27لوگوں کی حمایت حاصل کر کے وزیراعظم کو گھر کی راہ دکھائی جا سکتی ہے،اور 27ممبران اسمبلی کے ہی دستخط سے تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں جمع کروائی گئی ہے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد جمع کروانے والے ممبران اسمبلی میں اکثریت کابینہ کا حصہ اور وزارتوں پر موجود ہے۔ نامزد کیے گئے وزیراعظم بھی ابھی تک وزیر لوکل گورنمنٹ ہیں۔ان سب وزراء نے اپنی وزارتیں چھوڑنا بھی گوارہ نہیں کیا اور تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں جمع کروا دی۔

اس اسمبلی کی موجودہ مدت میں فیصل ممتاز راٹھور چوتھے وزیراعظم بننے جا رہے ہیں اور وزیراعظم کے انتخاب میں ووٹ دینے والے اکثریتی ممبران اسمبلی وہی ہونگے، جو اسی اسمبلی مدت میں اس سے قبل تین وزراء اعظم کے انتخاب میں ووٹ دے چکے ہیں۔ جمہوریت، آزادی اور تحریک آزادی کے نام پر اس کھلواڑ کی شاید ہی تاریخ میں کوئی اورمثال ملتی ہو۔

2021ء میں عام انتخابات کے نتیجے میں تحریک انصاف کو اکثریت حاصل ہوئی تھی۔ وزیراعظم کے انتخاب کا قرعہ بنی گالہ میں نکالا گیا اور ایک ایسے فرد کو وزیراعظم بنایا گیا، جس کے اپنے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ حادثہ اس کے ساتھ بھی کبھی ہو سکتا ہے۔ عبدالقیوم نیازی کو پھر 9ماہ کا اقتدار دیکھنے کے بعد اپنی ہی پارٹی کی جانب سے عدم اعتماد کی صورت گھر جانا پڑا۔وزارت عظمیٰ کا یہ تاج ارب پتی تنویر الیاس کے سرسجایا گیا۔ اب کی بار ممبران اسمبلی کو زحمت دیے جانے کی بجائے عدالتوں کو یہ بار اٹھانا پڑا اور تنویر الیاس توہین عدالت کے مجرم قرار پا کر محض ایک سال کے اندر ہی اقتدار سے نااہل ہو گئے۔اسی اسمبلی کے اراکین کو کئی روز انتظار کرنا پڑا، تاکہ وہ یہ فیصلہ کر سکیں کہ اب یہ تاج کس کے سر سجایا جائے گا۔ اس بارے میں ابھی بھی قیاص آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ آیا پیغام رساں کو خود فیصلہ کرنے میں مشکل تھی، یا پیغام اراکین اسمبلی تک پہنچانے کی راہ میں کوئی رکاوٹ۔ بہرحال رات کے 12بجے پیغام پہنچا لیکن پوری اسمبلی کو ایک ہی پیغام مل گیا، شاید کوئی تکنیکی خرابی ہوئی ہو۔ یوں اسمبلی کے 53اراکین میں سے اس وقت دستیاب48اراکین نے ایک شخص کو وزیراعظم بنا دیا، جس نے ابھی سپیکر کے عہدے سے استعفیٰ بھی نہیں دیا تھا۔

چوہدری انوارالحق کے بطور وزیراعظم انتخاب کے فوری بعد متحارب سیاسی قوتوں، یعنی تحریک انصاف اور پی ڈی ایم اتحاد نے اپنے اپنے طو رپر جشن منایا، اور نئے وزیراعظم کو مبارکباد دی۔ یوں وزیراعظم کے انتخاب کے بعد اس بات کا تعین کیا گیا کہ یہ وزیراعظم کس سیاسی قوت کے نمائندہ ہونگے۔ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر ممبر اسمبلی بننے والے چوہدری انوارالحق نے اعلان کیا کہ وہ پی ڈی ایم (پیپلزپارٹی، ن لیگ اور پی ٹی آئی فاورڈ بلاک) کے وزیراعظم ہیں۔ تحریک انصاف نے اپنا مال سمیٹنے کی کوشش کی، جو محض چنداراکین تک محدود ہو چکا تھا۔ اسی سامان کے ساتھ اپوزیشن لیڈر کا انتخاب عمل میں لایا گیا اور یہی اسمبلی ایک بار پھر ایسی ہی تاریخ دہرانے جا رہی ہے کہ وزیراعظم کو ووٹ دینے والا ہی اپوزیشن لیڈر بنایا جائے گا۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی یہ اسمبلی 1974ء سے حکومت پاکستان کے ایک ایگزیکٹو آرڈر، یعنی ایکٹ1974کے تحت چلائی جا رہی ہے۔ اب اس ایکٹ کو عبوری آئین کا نام بھی دیا گیا ہے۔ جس طرح حکومت پاکستان نے یہ عبوری آئین یہاں پر نافذ کیا ہے، بالکل اسی طرح حکومت بنانے اور گرانے کا کام بھی حکومت پاکستان کے ایک اشارے کی دوری پر ہی رہتا ہے۔ گزشتہ 20سالوں میں یہ دوسرا موقع ہے کہ ایک ہی اسمبلی مدت کے دوران 4وزیراعظم تبدیل کیے جائیں گے۔ اس سے قبل 2006سے 2011تک رہنے والی اسمبلی نے ایک مدت میں 4وزیراعظم تبدیل کیے تھے۔ ان 4تبدیلیوں میں بننے والے وزراء اعظم کا تعلق ایک ہی جماعت سے تھا۔ تاہم موجودہ مدت کے دوران بننے والے تین وزراء اعظم کا تعلق تحریک انصاف سے تھا، جبکہ چوتھا وزیراعظم پیپلزپارٹی سے ہوگا۔

چوہدری انوارالحق کی کابینہ میں بڑا حصہ مہاجرین جموں کشمیر مقیم پاکستان کے لیے مختص حلقوں سے آنے والے ممبران اسمبلی کا تھا، اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی فارورڈ بلاک، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی کو بھی کابینہ کا حصہ بنایا گیا۔ تقریباً40افراد پر مشتمل اس کابینہ کو بعد ازاں چوہدری انوارالحق نے ایم ایل ایز کی حکومت بھی بارہا قرار دیا۔

اس خطے میں حالیہ چار سالوں کے دوران وزراء اعظم کی پہلی تین تبدیلیاں پاکستان میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے نتیجے میں کی گئیں، جبکہ یہ چوتھی تبدیلی جموں کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے عمل میں لائی جا رہی ہے۔وزیراعظم انوارالحق کے اپریل 2023میں انتخاب کے چند روز بعد ہی آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عوامی حقوق تحریک کے نئے مرحلے کا آغاز ہو گیا تھا۔ یہ تحریک بڑھتے بڑھتے ریاست گیر تحریک کی شکل اختیار کر گئی اور تاحال اپنے عروج پر ہے۔ اس دوران حکومتی وزراء نجی محفلوں میں پاکستان کے مقتدر اداروں پر تحریک کی پشت پناہی کا الزام دھرتے رہے، جبکہ میڈیا پر بھارتی خفیہ اداروں کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے رہے۔ پاکستان کے مقتدر اداروں کی جانب سے بھی اس تحریک کو ایک غیر ملکی سازش کے طور پر ہی پیش کیا جاتا رہا۔

دوسری جانب اقتدار سے محروم مسلم لیگ ن کے ذمہ داران وزیراعظم انوارالحق کو ہی عوامی تحریک کارہنما قراردیتے آئے ہیں اور تمام مسائل کا ذمہ دار بھی انہیں ہی قرار دیتے رہے ہیں۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ اس تحریک سے نمٹنے کے حوالے سے ہر اہم فیصلہ مقتدر ادارے ہی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ فیصلہ کن مرحلوں میں مذاکرات اور چند مطالبات کی منظوری جیسے فیصلے بھی مقتدر اداروں کی جانب سے ہی کیے گئے۔
اب اپنے ہی کیے گئے فیصلوں اور بنائی جانے والی حکمت عملیوں کی ناکامی کا ذمے دار وزیراعظم کو قرار دیتے ہوئے نئے وزیراعظم کے طور پر بھی پہلے سے زیادہ وفادار شخصیت کا انتخاب عمل میں لایا گیا ہے۔

وزیراعظم کے طور پر نامزد ہونے والے فیصل ممتازراٹھور گزشتہ اڑھائی سال کے دوران عوامی حقوق تحریک کی قیادت سے مذاکرات کرنے والی حکومتی کمیٹی کے سربراہ رہے، اور غیر اعلانیہ طور پر حکومت کی قومی میڈیا پر ترجمانی کا فریضہ بھی وہی سرانجام دیتے رہے۔ تاہم اب مقتدر حلقے اور حکومت پاکستان جموں کشمیر کے لوگوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ چوہدری انوارالحق مسائل حل کرنے میں ناکام ہوئے ہیں اور فیصل راٹھور اب یہ مسائل حل کریں گے۔ یوں اب شہباز شریف ماڈل کے تحت یہ تیاری کی جارہی ہے کہ فیصل راٹھور اس اسمبلی کی باقی مدت کے دوران عوام کا حکومت پر کھویا ہوا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کریں گے اور پھر آئندہ انتخابات میں انہیں دوبارہ 5سال کے لیے وزیراعظم منتخب کیا جائے گا۔

فیصل ممتاز راٹھور نے اپنے انتخاب سے چند گھنٹے قبل وزارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا، لیکن پارٹی کے مقامی رہنماؤں کی بیان بازی اور تحریک عدم اعتماد میں اپنائے گئے موقف کے برعکس انوارالحق کے خلاف کسی قسم کا کوئی الزام عائد نہیں کیا، جس سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ فیصل ممتازراٹھور گزشتہ حکومت کا ہی تسلسل ہونگے، اور یہ سلسلہ آئندہ پانچ سال بھی چلائے رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

تقریباً ایک ماہ سے تحریک عدم اعتماد کے لیے نمبر پورے کرنے کے باوجودطاقت کے اصل مرکز کے ساتھ مستقبل کی سودے بازی پر اتفاق نہ ہونا رکاوٹ تھا۔اس دوران نہ صرف27ویں آئینی ترمیم پر سودے بازی کی گئی، بلکہ آنے والی مدت کے لیے نواحی اور مرکزی پاکستان کے اقتدار کے ٹھیکوں کی بندربانٹ جیسی سودے بازی بھی طے کی گئی۔

یوں پاکستان میں طے ہونے والے اقتدار کے فارمولے کے تحت جموں کشمیر کے اس خطے کے حکمران کہلانے والے طفیلی عناصر کی رائے جانے بغیر ان کے مستقبل کا فیصلہ بھی کر لیا گیا۔ ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ وزیراعظم انوارالحق اسمبلی توڑنے کا سیاسی فیصلہ لینے میں بھی آزاد نہیں تھے۔ ایک ماہ سے یہ جانتے ہوئے کہ ان سے وزارت عظمیٰ چھیننے کا فیصلہ ہو چکا ہے، وہ اسمبلی توڑنے کا فیصلہ اس لیے نہیں کر سکے کہ انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کمزوری اور لاچارگی کے باوجود یہ نام نہاد سیاسی کردار نوآبادیاتی اقتدار کی کٹھ پتلیوں کا کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

جموں کشمیر میں حق حکمرانی اور وسائل پر حق ملکیت کے حصول کے مطالبات زبان زدِ عام ہیں۔ حکومت کی تبدیلی اور عوامی حقوق تحریک کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مزید واضح ہو کر سامنے آیا ہے کہ اس خطے پر حکمرانی کا حق اور اختیار اس خطے کے عوام کے پاس نہیں ہے۔ ہر بار حکومت اور وزیراعظم تبدیل کرنے کے ذریعے یہ کوشش کی جاتی رہی ہے کہ عوام کی توجہ ان کے مسائل سے ہٹاکر نئے چہرے سے وابستہ کر لی جائے۔ تاہم اس بار ایسا ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔ اس بار چہرے کی تبدیلی کے ذریعے اس نوآبادیاتی ڈھانچے کو عوام کے سامنے مزید بے نقاب کر دیا گیا ہے۔ اس نوآبادیاتی نظام کو تبدیل کیے بغیر نہ تو حق حکمرانی بحال ہو سکتا ہے، نہ ہی اس خطے کے مسائل حل کرنے کی جانب کوئی قدم آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ چہروں کو تبدیل کرنے کی بجائے، چہرے تبدیل کرنے والوں سے یہ اختیار چھین کر اصل حقداروں، یعنی عوام کو لوٹایا جائے۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں