روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

206 ملین بیرل تیل کی رسد متاثر، آبنائے ہرمز کی جزوی بحالی کے باوجود بحران برقرار

206 ملین بیرل تیل کی رسد متاثر، آبنائے ہرمز کی جزوی بحالی کے باوجود بحران برقرار

لاہور(جدوجہد رپورٹ)امریکہ اور ایران کے درمیان 40 روزہ جنگ کے بعد بدھ کی صبح دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس کے بعد جمعے کو اسلام آباد میں مذاکرات شروع ہونے کی توقع ہے۔ جنگ بندی ایران کی10 نکاتی تجاویز میں شامل اس اہم شرط کے تحت ممکن ہوئی کہ آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر دوبارہ کھولا جائے، جہاں سے امن کے دنوں میں دنیا کے تیل اور گیس کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔ جنگ کے آغاز سے یہ راستہ تقریباً مکمل بند تھا، جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل اور گیس کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق اعلان کے فوراً بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت، جو کئی ہفتوں سے 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر تھی، بدھ کو کم ہو کر 92 ڈالر تک آ گئی۔ تاہم ماہرین کے مطابق رسد کی بحالی میں تاخیر اور ٹرانسپورٹ کے تعطل کے باعث بحران کا فوری خاتمہ ممکن نہیں۔ 6 ہفتوں کے دوران 100 سے زائد ممالک میں پٹرول کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں، جبکہ ایشیا کے کئی ممالک نے ایمرجنسی اقدامات کرتے ہوئے دفتری اوقات کم، ورک فرام ہوم پالیسیاں، ایندھن کی راشننگ اور کرفیو نافذ کر دیے ہیں۔

ٹینکرز کی حفاظت سے متعلق خدشات کے باعث آئندہ دو ہفتوں میں بحری نقل و حرکت معمول پر آنا مشکل ہے۔ تیل بردار جہاز جو جنگ کے بعد متبادل روٹس یا دور دراز سمندری علاقوں میں چلے گئے تھے، انہیں خلیج واپس آنے میں کئی ہفتے لگیں گے۔ دوسری جانب ذخائر بھر جانے کے بعد تیل پیدا کرنے والے ممالک نے کنویں بند کرنا شروع کر دیے تھے، جنہیں دوبارہ کھولنا ایک مہنگا اور تکنیکی طور پر پیچیدہ عمل ہے۔

ماہرین کے مطابق توانائی بحران کے اثرات 2026 کے آخر تک اور ممکنہ طور پر 2027 تک صارفین کی جیبوں پر پڑتے رہیں گے، جبکہ خلیجی توانائی انفراسٹرکچر کو جنگ سے پہنچنے والا نقصان مکمل طور پر ٹھیک کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ڈیٹا کے مطابق فروری میں خلیجی ممالک عراق، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مشترکہ برآمدات 469 ملین بیرل تھیں، جو مارچ میں کم ہو کر 263 ملین بیرل رہ گئیں۔ یوں ایک ماہ میں 206 ملین بیرل یعنی 44 فیصد برآمدات غائب ہو گئیں۔

عراق سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں برآمدات 82 فیصد کمی کے ساتھ 94 ملین سے گھٹ کر صرف 17 ملین بیرل رہ گئیں۔ کویت اور قطر کی برآمدات میں بالترتیب 75 اور 70 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ سعودی عرب اور یو اے ای نسبتاً کم متاثر ہوئے، جن کی رسد میں 34 اور 26 فیصد کمی ہوئی، کیونکہ متبادل پائپ لائنیں اور فلوٹنگ اسٹوریج جزوی طور پر مددگار ثابت ہوئے۔ عمان واحد ملک رہا جہاں زیادہ تر بندرگاہیں آبنائے ہرمز سے باہر ہونے کے باعث برآمدات 16 فیصد بڑھ کر 25 سے 29 ملین بیرل تک پہنچ گئیں۔

206 ملین بیرل کی یہ مقدار تقریباً 103 ویری لارج کروڈ کیریئر ٹینکروں کے برابر ہے، جو دنیا کی توانائی تجارت کے سب سے بڑے جہاز سمجھے جاتے ہیں اور دو ملین بیرل تک تیل لے جا سکتے ہیں۔ ایک VLCC کی لمبائی تقریباً 330 میٹر ہوتی ہے، جو پیرس کے ایفل ٹاور کی اونچائی کے برابر ہے۔ یہ عام طور پر 50 سے 60 میٹر چوڑا اور مکمل لوڈنگ کی صورت میں 20 سے 22 میٹر گہرا ہوتا ہے۔

ایک بیرل خام تیل میں 159 لیٹر ہوتے ہیں۔ ریفائننگ کے بعد اسی بیرل سے تقریباً 73 لیٹر پٹرول حاصل ہوتا ہے، باقی ڈیزل، جیٹ فیول اور دیگر مصنوعات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جنگ کے دوران تیل کی قیمت مسلسل 100 ڈالر سے اوپر رہی اور 2 اپریل کو 128 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچی۔ جنگ سے پہلے برینٹ کی اوسط قیمت تقریباً 65 ڈالر تھی۔ اسی حساب سے 206 ملین بیرل کی مالیت درجنوں ارب ڈالر بنتی ہے، جو عالمی منڈی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

دو ہفتے جنگ بندی کے باوجود توانائی بحران کے دور رس اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر آنے والے مہینوں تک غالب رہنے کا امکان ہے۔

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں