روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

نور جہاں کے مزار پر

نور جہاں کے مزار پر

ساحر لدھیانوی

پہلوئے شاہ میں یہ دختر جمہور کی قبر
کتنے گم گشتہ فسانوں کا پتہ دیتی ہے
کتنے خوں ریز حقائق سے اٹھاتی ہے نقاب
کتنی کچلی ہوئی جانوں کا پتہ دیتی ہے
کیسے مغرور شہنشاہوں کی تسکیں کے لیے
سالہا سال حسیناؤں کے بازار لگے
کیسے بہکی ہوئی نظروں کے تعیش کے لیے
سرخ محلوں میں جواں جسموں کے انبار لگے
کیسے ہر شاخ سے منہ بند مہکتی کلیاں
نوچ لی جاتی تھیں تزئین حرم کی خاطر
اور مرجھا کے بھی آزاد نہ ہو سکتی تھیں
ظل سبحان کی الفت کے بھرم کی خاطر
کیسے اک فرد کے ہونٹوں کی ذرا سی جنبش
سرد کر سکتی تھی بے لوث وفاؤں کے چراغ
لوٹ سکتی تھی دمکتے ہوئے ہاتھوں کا سہاگ
توڑ سکتی تھی مئے عشق سے لبریز ایاغ
سہمی سہمی سی فضاؤں میں یہ ویراں مرقد
اتنا خاموش ہے فریاد کناں ہو جیسے
سرد شاخوں میں ہوا چیخ رہی ہے ایسے
روح تقدیس و وفا مرثیہ خواں ہو جیسے
تو مری جان مجھے حیرت و حسرت سے نہ دیکھ
ہم میں کوئی بھی جہاں نور و جہاں گیر نہیں
تو مجھے چھوڑ کے ٹھکرا کے بھی جا سکتی ہے
تیرے ہاتھوں میں مرے ہاتھ ہیں زنجیر نہیں

ماخذ: جدوجہد

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں