راولاکوٹ( نامہ نگار) جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے مرکزی صدر خلیل بابر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں کشمیر کی اولین انقلابی طلبہ تنظیم جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اپنے 22ویں مرکزی کنونشن کے انعقاد کا اعلان کرنے جا رہی ہے۔ یہ کنونشن 20ستمبر2025کو راولاکوٹ کے مقام پر منعقد کیا جائے گا اور کنونشن میں جموں کشمیر سمیت پاکستان کے مختلف شہروں سے انقلابی طالبعلم رہنما، مظلوم قوموں اور محنت کش طبقات کے رہنما شرکت کریں گے۔ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اس خطے کی اولین طلبہ تنظیم ہے، جس نے نہ صرف طلبہ حقوق کی بازیابی کے لیے ایک لازوال جدوجہد کی ہے، بلکہ جموں کشمیر کی قومی آزادی اور طبقاتی نجات کے لیے محنت کش طبقات کے ساتھ مل کر اس خطے میں ایک حقیقی انقلابی جدوجہد کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ایک طویل عرصے تک عوامی حقوق کی بازیابی کے لیے جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے اس خطے کے طالبعلموں اور نوجوانوں کے ہمراہ حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کیا ہے۔ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈسنٹس فیڈریشن کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس نے اس خطے کے نوجوانوں اور محنت کشوں کو جدید سائنسی سوشلزم کے نظریات سے نہ صرف روشناس کروایا بلکہ ان نظریات کی بنیاد پر ایک متبادل انقلابی قیادت کی تعمیر کا فریضہ بھی سرانجام دیا ہے۔ اس جدوجہد کے دوران جموں کشمیرنیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کو ریاستی جبرو تشدد اور انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، لیکن سائنسی سوشلزم کے انقلابی نظریات سے لیس جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکنوں نے ہر عہد میں ریاستی جبر کا جواں مردی سے سامنا کیا ہے۔
22ویں مرکزی کنونشن کے سلسلہ میں آج سے ہم رابطہ مہم کا آغاز کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جموں کشمیر اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کنونشن کی تیاریوں کے سلسلے میں رابطہ اجلاس، ممبر شپ مہم اور پریس کانفرنسوں کا اہتمام کریں گے۔ جموں کشمیر کے تمام شہروں میں تعلیمی اداروں کے باہر رابطہ مہم کے سلسلے میں کیمپ لگائے جائیں گے اور دیہاتوں میں نوجوانوں کی سرگرمیاں منظم کی جائیں گی۔ کنونشن کے سلسلے میں بڑے پیمانے پر لٹریچر کی اشاعت کو یقینی بنایا جائے گا اور طلبہ مسائل کو اجاگرکرنے کے ساتھ ساتھ اس خطے کے محنت کشوں کے معاشی، سیاسی اور جمہوری حقوق کی جدوجہد، اورجموں کشمیر کی محکومی سے نجات کا پروگرام نوجوانوں، محنت کشوں اور عوام عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔ کنونشن کے موقع پر راولاکوٹ میں ایک تاریخ ساز طلبہ حقوق مارچ اور جلسہ عام منعقد کیا جائے گا۔ کنونشن میں نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کی نئی کابینہ کا انتخاب بھی کیا جائے گا۔
وہ غازی ملت پریس کلب راولاکوٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ مرکزی ڈپتہٹچیف آرگنائزر ارسلان شانی، چیئرمین ضلع پونچھ مجیب خان، چیئرمین مالیاتی بورڈ دانش یعقوب، مرکزی ایڈیٹر عزم بدر رفیق، جنرل سیکرٹری جامعہ پونچھ علیزہ اسلم، مریم شعیب، چیئرمین مظفرآباد اذان علی، امن خان، ماہ نور اسلم، دانش فدا، مہک زاہد، سیف خان، برہان حلیم، عباد خان اور دیگر طلبہ بھی موجود تھے۔
مرکزی صدر کا مزید کہنا تھا کہ آج جس عہد میں ہم اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں، یہ انتہائی پرانتشار عہد ہے۔ دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام کی ننگی جارحیت جاری ہے۔ اس سامراجی نظام کی ناکامی اور بحران کا تمام تر بوجھ محنت کشوں پر ڈالا جا رہا ہے اور اس بحران سے نکلنے کے لیے نئی سامراجی خونریزیوں کا سلسلہ عروج پر ہے۔ آج جنوب ایشیا سے مشرق وسطیٰ، یورپ اور افریقہ تک جنگوں اور خونریزیوں میں انسانیت کو تاراج کیا جا رہا ہے۔ منڈیوں اور تجارتی راستوں پر قبضے، تذویراتی اور سامراجی مقاصد کے حصول کے لیے دنیا بھر کے حکمران طبقات محنت کشوں کے خون کی ہولی کھیلنے میں مصروف ہیں۔ ماحولیاتی تباہی کی وجہ سے یہ کرہ ارض تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے اور یہ سب اس نظام کی لوٹ مار اور ایک طبقے کی دولت کی ہوس کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ آج موسموں کی شدت، سیلاب، طوفان، خشک سالی اور جنگلوں کی آگ سمیت گلیشیئروں کے پگھلنے کے عمل کے باعث اس کرہ ارض پر زندگی کو ایک سنجیدہ خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ ایک طرف جدید ترین ٹیکنالوجی اور ذرائع پیداوار کی ترقی اس نہج تک پہنچ چکی ہے کہ اس دنیا میں بسنے والے انسانوں کے تمام مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے، لیکن دوسری طرف آج اربوں انسان بھوک، لاعلاجی اور بے گھری کا سامنا کر رہے ہیں۔ کروڑوں انسان ہجرتوں پر مجبور ہیں اور مہاجرین دنیا میں ایک بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ تمام تر وسائل ہونے کے باوجود ایک طبقے کی جانب سے ان وسائل پر قبضہ اور دولت کا چند ہاتھوں میں ارتکاز 98فیصد انسانوں کو تمام تر ضروریات زندگی سے محروم کرتا جا رہا ہے۔ یہ نظام جب تک موجود رہے گا انسانیت کی تباہی کا سلسلہ تیز تر ہوتا جائے گا اور جلد یہ حکمران طبقات اس کرہ ارض پر زندگی کی بقاء کو ناممکن بنا دیں گے۔
اس کیفیت میں ہم دنیا بھر میں جاری محنت کشوں کی تحریکوں کی حمایت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس عالمی سامراجی نظام کو اکھاڑ پھینکے بغیر اربوں انسانوں کو بہتر زندگی فراہم نہیں کی جا سکتی۔ ہم ذرائع پیداوار کی اجتماعی ملکیت اور تمام انسانوں کی فلاح کے لیے ان کے استعمال کو ممکن بنائے جانے تک اس جدوجہد کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر جاری رکھیں گے۔
جہاں دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام کی خونریزیاں اور بربادیاں جاری ہیں، وہاں جنوب ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ جیسے پسماندہ خطوں میں نوآبادیاتی جبر اوروسائل کی سامراجی لوٹ مار کا سلسلہ بھی عروج پر ہے۔ سامراجی ملکوں کے حکمران طبقات محکوم قوموں کو سیاسی، معاشی اور جمہوری آزادیوں سے محروم کر کے ان کے وسائل کو بے دردی سے لوٹنے میں مصروف ہیں۔ اس لوٹ مار کو جاری رکھنے کے لیے فوجی جبر، ننگی جارحیت اور قتل عام کا سلسلہ عام کیاجارہا ہے۔ آج جموں کشمیر سے فلسطین تک اور کردستان سے افریقہ اور لاطینی امریکہ تک محکوم قوموں کی نجات کی لڑائی جاری ہے۔ کئی مقامات پرمحکوم قوموں کی بقاء کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
ہم دنیا بھر کے محکوم انسانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور دنیا بھر کی محکوم قوموں کی حق آزادی اور حق خودارادیت کی جدوجہد کو اپنی جدوجہد سمجھتے ہیں۔ ہم جموں کشمیر میں موجود تمام مظلوم قومیتوں کی نجات کی لڑائی کو برابری اور یکجہتی کی بنیاد پر آگے بڑھانے کا پروگرام رکھتے ہیں۔
فوری طور پر ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جموں کشمیر کے پاکستانی زیر انتظام علاقوں جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کو آئین سازی اور قانون سازی کے اختیارات دیے جائیں، ان کے وسائل پر انہیں مکمل اختیار دیا جائے۔ اسی طرح جموں کشمیر کے بھارتی زیر انتظام حصوں میں بھی آئین سازی اور قانون سازی کے اختیارات دیے جائیں، ان کا ریاستی تشخص بحال کیا جائے۔ ہم جموں کشمیر کے اندر موجود تمام قومیتوں کے اتحاداور یکجہتی کی بنیاد پر مکمل آزادی اور ایک سوشلسٹ فیڈریشن کے قیام کی جدوجہد میں موجود ہیں۔
ایک سوشلسٹ فیڈریشن میں ہی جموں کشمیر کی تمام قومیں اپنے آزادانہ تشخص اور وسائل پر اختیار کو قائم رکھتے ہوئے برابری کی بنیاد پر اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہیں۔ ہم جموں کشمیر کی مکمل آزادی، طبقات سے پاک معاشرے کے قیام اور برصغیر جنوب ایشیا سمیت دنیا بھر میں محنت کشوں کی اس نظام کے خلاف حتمی فتح تک اپنی جدوجہد جاری و ساری رکھیں گے۔