روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر میں جاری ریاستی جبر کے خلاف جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کا اعلامیہ

پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر میں جاری ریاستی جبر کے خلاف جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کا اعلامیہ

لاہور(جدوجہد رپورٹ) جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر میں عوامی تحریک کے خلاف جاری ریاستی جبر و تشدد کی غیر مبہم اور شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

گزشتہ دو دنوں سے پاکستانی ریاست نے پورے خطے میں انٹرنیٹ کی مکمل بندش نافذ کر رکھی ہے تاکہ عوام کو ایک دوسرے سے کاٹ دیا جائے، اطلاعات کی ترسیل روکی جائے اور عوام کے منظم ہونے کے بنیادی حق کو کمزور کیا جا سکے۔ اس ڈیجیٹل محاصرے کے ساتھ ساتھ ریاست نے ایف سی، رینجرز اور پولیس کی اضافی نفری پاکستان سے لا کر تعینات کی ہے تاکہ بنیادی جمہوری حقوق اور عوامی خودمختاری کے لیے جاری عوامی تحریک کو کچلا جا سکے۔

اس کریک ڈاؤن کے دوران درجنوں بے گناہ کشمیری نوجوان شدید زخمی ہوئے ہیں۔ 6 جون کی شب ریاستی فورسز نے شازب حبیب کو ماورائے عدالت قتل کر دیا۔ یہ ایک سفاکانہ قتل ہے جو قابض حکمران نظام کے حقیقی اور وحشی چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔ اس کے بعد سے ریاستی جبر میں مزید شدت آ چکی ہے۔ آج راولاکوٹ میں ریاست نے ایک بار پھر پرامن مظاہرین کے خلاف آنسو گیس اور گولیوں کا استعمال کیا ہے۔ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں اور ظلم کی انتہا یہ ہے کہ زخمیوں کو ہسپتالوں میں بنیادی طبی سہولیات تک فراہم نہیں کی جا رہیں۔

ریاست اپنے میڈیا کے ذریعے ایک مذموم پراپیگنڈا مہم بھی چلا رہی ہے جس کا مقصد ایک جائز عوامی تحریک کو "نسلی” اور "بیرونی فنڈنگ” سے چلنے والے تنازعے کے طور پر پیش کرنا ہے۔ یہ حقائق کو مسخ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ جموں کشمیر کے عوام پنجاب یا کسی دوسرے خطے کے محنت کش عوام کے خلاف جدوجہد نہیں کر رہے۔ ان کی جدوجہد استحصال، سیاسی محکومی، طبقاتی جبر اور سرمایہ دارانہ و نوآبادیاتی تسلط کے ان ڈھانچوں کے خلاف ہے جن کے ذریعے پاکستانی حکمران اشرافیہ پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر پر اپنی گرفت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اس جبر، سنسرشپ اور پراپیگنڈے کو سخت ترین الفاظ میں مسترد کرتی ہے۔ اس عوامی تحریک کو نہ گولیوں سے دبایا جا سکتا ہے، نہ انٹرنیٹ کی بندش سے، اور نہ ہی جھوٹے پراپیگنڈے سے!

ہم مطالبہ کرتے ہیں:

  1. پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر میں انٹرنیٹ سروس کی فوری اور غیر مشروط بحالی۔
  2. شازب حبیب کے قتل کا مقدمہ فوری طور پر درج کیا جائے اور ایک آزاد، شفاف اور عوامی نگرانی میں تحقیقات کرائی جائیں۔ اس قتل میں ملوث تمام اہلکاروں، کمانڈرز اور ذمہ دار حکومتی شخصیات بشمول نام نہاد "وزیراعظم” کو عوام کے سامنے نامزد کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور سزا دی جائے۔
  3. ایف سی، رینجرز اور تمام اضافی فورسز کا پاکستانی زیرِ انتظام جموں کشمیر سے فوری اور مکمل انخلا۔
  4. پرامن مظاہرین کے خلاف آنسو گیس، من مانے گرفتاریاں، حراست، دھمکیوں اور ہر قسم کے ریاستی تشدد کا فوری خاتمہ۔
  5. تمام زخمی مظاہرین کو بلا امتیاز، مفت اور مکمل طبی سہولیات کی فراہمی اور علاج میں ریاستی مداخلت کا خاتمہ۔
  6. آل جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد ہر قسم کی پابندی فوری طور پر واپس لی جائے۔ اسے "غیر قانونی تنظیم” قرار دینے کی کوئی بھی کوشش عوام کے حقِ اختلاف پر براہِ راست حملہ ہے۔
  7. عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں، جن میں 12 نشستوں کا خاتمہ بھی شامل ہے، جو دہائیوں سے عوامی مینڈیٹ کو سبوتاژ کرنے اور جموں کشمیر کے عوام پر حکمران طبقے کی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں۔
    جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر کے طلبہ، محنت کشوں، کسانوں، ٹریڈ یونینز، ترقی پسند تنظیموں، بائیں بازو کے کارکنان اور تمام مظلوم عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ انقلابی یکجہتی کا اظہار کریں۔
    علم، جدوجہد، فتح!

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں