لاہور(جدوجہد رپورٹ)وزیراعظم کے معاون خصوصی محمد علی نے فنانشل ٹائمز کو ایک تبصرے میں بین الاقوامی قرض دہندگان کے ایک گروپ کے دستخط شدہ خط کے بعد انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز(آئی پی پیز) کے ساتھ بات چیت میں کسی ’زبردستی‘ کی تردید کی ہے۔
’ڈان‘ کے مطابق 18فروری کو 8ڈویلپمنٹ فنانس انسٹی ٹیوشنز(ڈی ایف آئیز) نے ایک خط میں حکومت کی جانب سے ہوا اور شمسی معاہدوں پر دوبارہ گفت و شنید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ آئی پی پیز کے ساتھ جبر کیساتھ دوبارہ گفت و شنید کرنے سے مستقبل میں نجی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچے گا۔ ان ڈی ایف آئیز نے گزشتہ 25سالوں میں ملک میں 2.7ارب ڈالر کے پاور پراجیکٹس کی مالی معاونت کی ہے۔
قرض دینے والوں میں ورلڈ بینک کی انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن، ایشیائی ترقیاتی بینک، اسلامی ترقیاتی بینک اور 4یورپی ترقیاتی مالیاتی ادارے شامل ہیں۔
خط میں کہا گیا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ غیر مشاورتی طریقے سے پاور پرچیز ایگریمنٹس پر دوبارہ گفت و شنید کرنا اس شعبے کی طویل مدتی ترقی کے لیے نقصان دہ ہوگا، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مجروح کرے گا اور مستقبل میں بہت زیادہ ضروری نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرے گا۔
وزیرخزانہ، وزیر توانائی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی کو لکھے گئے خط میں پاور سیکٹر کو درپیش’مشکلات‘ کا بھی اعتراف کیا گیا اور طویل مدتی سٹرکچرل چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے بعض اقدامات کو سراہا بھی گیا۔
خط میں لکھا گیا کہ ’ہمیں امید ہے کہ حکومت پاور پرچیز اگریمنٹس پر دوبارہ گفت و شنید کے لیے اپنے نقطہ نظر پر نظرثانی کرے گی اور توانائی کے شعبے کے ساختی چیلنجوں کو حل کرنے کے متبادل طریقے تلاش کرنے کے لیے کام کرے گی۔‘
معاون خصوصی برائے وزیراعظم محمد علی نے کہا کہ قرض دہندگان کو غلط معلومات دی گئی تھیں۔ یہ مذاکرات بہت دوستانہ تھے۔
حکومت نے اب تک مذاکرات کے ذریعے کل 27آئی پی پیز سے مستقبل کی ادائیگیوں میں تقریباً1571ارب روپے کی بچت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ حکومت کے مطابق ایک ’ناخوش‘ آئی پی پی کو فرانزک آڈٹ سے گزارنا پڑے گا۔
جنوری میں وفاقی کابینہ نے پاور ڈویژن کی 14 آئی پی پیز کے ساتھ طے پانے والے مذاکراتی معاہدوں پر نظر ثانی کرنے کی سفارش کی منظوری دی تھی جس کا مقصد بجلی کی لاگت کو کم کرنا اور قومی خزانے کے لیے 1.4 ٹریلین روپے کی بچت کرنا ہے۔
اکتوبر میں حکومت نے پانچ قدیم ترین آئی پی پیز کے ساتھ بجلی کی خریداری کے معاہدے قبل از وقت ختم کر دیے جس سے 411 ارب روپے کی بچت کا امکان تھا۔ اس کے بعد دسمبر میں 8آئی پی پیز کے ساتھ سیٹلمنٹ معاہدے ہوئے جن کا مقصد بجلی کے نرخوں کو کم کرنا اور قومی خزانے کے لیے تقریباً 240 ارب روپے کی بچت کرنا ہے۔