روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

یہ ریاستی تشددکا ایک واقعہ نہیں، معمول ہے…

یہ ریاستی تشددکا ایک واقعہ نہیں، معمول ہے…

کائنات بلوچ

انسانی ارتقاء کی تاریخ بیک وقت مزاحمت کی تاریخ ہے۔ اگر ماضی میں کسی نے آواز نہ اٹھائی ہوتی تو جدید دور میں حاصل حقوق ہمیں ہرگز میسرنہ ہوتے۔

۱۱ جون (گذشتہ جمعرات) کے روز پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو، جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن، اور ریولوشنری سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام جموں کشمیر میں جاری لانگ مارچ اور وہاں ریاست کے باشندوں پر ہونے والے ریاستی تشدد کے خلاف، یکجہتی کے لئے ایک مشترکہ مظاہرے کا اعلان کیا گیا۔

مظاہرہ شام 6 بجے،لاہور پریس کلب کے باہر ہونا تھا۔

مظاہر ہ شروع ہونے ہی والا تھا۔ چند ہی کامریڈز موجود تھے۔ابھی کوئی بڑا ہجوم جمع نہیں ہوا تھا۔ کوئی بڑا جلسہ نہیں ہو رہا تھا۔ مظاہرے کے منتظمین تھے۔ کچھ دیگر ساتھی تھے جو ایک ایک کر کے آ رہے تھے۔مظاہرے کی تیاری تھی۔دیگر ساتھیوں کا انتظار تھا۔

عین اس لمحے، اس سے پہلے کہ مظاہرہ کسی مظاہرے کی شکل اختیار کرتا،پنجاب پولیس آ پہنچی۔ مظاہرہ روکنے کے لئے منتظمین اور طلبہ رہنما گرفتار کر لئے گئے۔

گرفتار ہونے والوں میں اویس قرنی، احسن جاوید، جمیل بلوچ اور حماد خان کاکڑ شامل تھے۔

اس سے پہلے کہ فضا میں کوئی نعرہ گونجتا، کوئی تقریر کی جاتی۔۔۔انہیں موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔

گرفتار شدگان کو قلعہ گوجر سنگھ تھانے پہنچا دیا گیا۔

مظاہرہ منتشر نہیں کیا گیا۔ اسے ہونے سے پہلے روک دیا گیا۔

اس ملک میں ریاست اپنی طاقت کا اظہار اسی انداز میں کرتی ہے: مظاہرے پر رد عمل دینے کی بجائے، مظاہرے کو جنم لینے سے پہلے گلا دبا کر ہلاک کر دیا جاتا ہے۔

بات لیکن پھیل چکی تھی۔ لوگ ایک ایک کر کے پہنچنا شروع ہو گئے۔ ہم تھانہ قلعہ گوجر سنگھ پہنچ گئے۔

کوئی بڑا ہجوم نہیں تھا۔تعداد اتنی زیادہ نہیں تھی۔ ہم چند لوگ تھانے کے ارد گرد ٹولیوں کی صورت موجود تھے۔ ہم گرفتار ساتھیوں کو تھانے میں چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے تھے۔

تھانے کے اندر چاروں گرفتار ساتھی ایک کمرے میں محبوس تھے۔یہ تسلی کرنے کے لئے کہ وہ تھانے میں ہی موجود ہیں، میں انہیں دیکھنے کے لئے تھانے کے اندر گئی۔میں دیواروں اور وردیوں کے بھاری بوجھ تلے، گرفتار ساتھیوں سے لمحہ بھر بات کرنا چاہتی تھی۔ ایک سب انسپکٹر نے مجھے وہاں سے فورا نکل جانے کا حکم صادر کر دیا۔

میں نے انکار کر دیا۔ میں نے اسے بتایا:یہ میرا حق ہے کہ میں یہاں موجود رہوں۔

میرا جواب سنتے ہی صاحب بہادر کا لہجہ درشت ہو گیا۔

پنجاب پولیس کسی قانونی موجودگی کو قبول نہیں کرتی، وہ قانونی موجودگی کے ساتھ بذریعہ طاقت نپٹتی ہے۔مجھے گیٹ کی طرف دھکیل دیا گیا۔

گیٹ کے باہر ہم لگ بھگ دس لوگ موجود تھے۔ ایک سرکاری عمارت کی چوکھٹ پر قطار میں کھڑے دس لوگ، جن کے چار ساتھی اندر محبوس تھے۔

ہم انتظار کر رہے تھے۔

تقریبا دو گھنٹے گزر گئے۔

تھانے کے باہر انتظار کرنا خالی انتظار کرنا نہیں ہوتا۔وقت گھڑی کی سوئیوں کے مطابق نہیں کٹتا۔ وقت دباو بن جاتا ہے۔ آپ ریاستی کنٹرول کا مشاہدہ کرتے ہیں: اندر کون ہے، باہر کون ہے، کس سے بات کی جاتی ہے، کسے منہدم کر دیا جاتا ہے۔

ایس ایچ او نمودار ہوتا ہے۔

پنجاب پولیس کے تشدد کی سر عام نمائش ہونے لگتی ہے۔

وہ مکالمہ کرنے نہیں آیا۔وہ دھکم پیل کرنے آیا ہے۔

کامریڈز کو دھکے دئے جاتے ہیں،انہیں پیچھے دھکیلا جاتا ہے گویا گیٹ پر کھڑے ہونا کوئی جرم ہو۔ ہجوم سے معاملہ کرنے کی کوشش نہیں ہو رہی۔ کسی

قاعدے قانون کا خیال نہیں رکھا جا رہا۔ گیٹ سے دس لوگوں کے گروہ کو ہٹانے کے لئے طاقت استعمال ہو رہی ہے۔ ہم دس تو لوگ تھے مگر ان دس کو بھی زیر کرنے کی کوشش ہو رہی تھی۔

میں ایک خاتون کامریڈ کے ہمراہ کھڑی تھی۔ میں نے موبائل نکال کر ویڈیو بنانی شروع کر دی۔

ان حالات میں شہادت ہی جمع کی جا سکتی تھی۔

موبائل دیکھ کر ایس ایچ او ہماری جانب لپکا۔

مجھے گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی۔

وجہ۔الزام۔ وضاحت؟ندارد۔

میں نے اس دھمکی کی وضاحت مانگی۔

وضاحت کا قانون سے کوئی دور کا رشتہ بھی نہیں نکلا۔ طاقت پورے تیقن اور اعتمادسے بات کر رہی تھی۔

اس نے میرا موبائل چھیننے کی کوشش کی۔ دھمکی اب ایک قدم آگے بڑھ چکی تھی۔ پولیس تھانے کی چوکھٹ پر پولیس تشدد کے ثبوت مٹانے کی کوشش ہو رہی تھی۔

میں نے مزاحمت کی۔ کھینچا تانی ہوئی۔

پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے کامریڈ اقبال اور سینئیر کامریڈ فاروق طارق نے مداخلت کی۔ ایس ایچ او کو بتا گیا کہ وہ ہراسانی کر رہا ہے۔ایک خاتون کو ویڈیو بنانے پر نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ غیر ضروری اشتعال انگیزی ہے۔

وہ باز نہیں آیا۔

اس کا کہنا تھا،ایسی باتوں سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

گرفتاری تو ہو گی، وہ بضد رہا۔

اس کا مطالبہ تھا کہ ویڈیوز ڈیلیٹ کی جائیں۔دباو کے اس لمحے میں نے ویڈیوز ڈیلیٹ کر دیں۔

اپنی مرضی سے نہیں! اندریں حالات طاقت کا توازن انکار کا موقع فراہم نہیں کر رہا تھا۔

گویا لمحہ ہی پولیس کی گرفت میں نہیں تھا، پس ِلمحہ بھی پولیس کے شکنجے میں تھا۔

اس کے بعد شرط رکھی گئی!اگر ہم اپنے محبوس کامریڈ ز کی رہائی چاہتے ہیں تو گیٹ خالی کر دیں۔

یہ بھی کنٹرول کی ایک شکل ہے۔ ایک طرف قید کے ذریعے حرکت کو جام کر دیا جاتا ہے تو دوسری طرف حرکت کو مسلط بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہم نے گیٹ خالی کر دیا۔ ہم قلعہ گوجر سنگھ تھانے سے نکل آئے۔اپنی مرضی سے نہیں، بحکم سرکار، طاقت کے ہاتھوں مجبور ہو کر۔ایک ایسے نظام کے تحت جو فیصلہ کرتا ہے کہ کب کھڑا رہنا ہے،کب تتر بتر ہو جانا ہے۔

ہم کوئٹہ پیالہ ہوٹل میں محبوس ساتھیوں کی رہائی کا انتظار کرنے لگے۔

رات گئے، وکیلوں اور کامریڈوں کے دباو کے نتیجے میں، چاروں ساتھیوں کو رہا کر دیا گیا۔

ان کی رہائی تو ہو گئی مگر پیٹرن بدستور قائم ہے۔

پنجاب پولیس نے مظاہرے پر رد عمل نہیں دیا۔ مظاہرہ وقع پزیر ہی نہیں ہو سکا۔ جلسے سے پہلے جلسے کے منتظمین گرفتار کر لئے گئے۔دس لوگوں کی ایک ٹولی سے نپٹنے کے لئے دھمکیوں اور تشدد کا سہارا لیا گیا۔ تھانے کے گیٹ پرمعمولی ہلچل کی اجازت نہیں دی گئی۔دستاویزی ثبوت مٹا دئیے گئے۔ ویڈیو فوٹیج ڈیلیٹ کروا دی گئی۔وجود کو جرم بنا دیا گیا۔

یہ ریاستی تشدد ایک واقعہ نہیں، معمول ہے۔

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں