روزنامہ جدوجہد
خبریں پاکستان بین الاقوامی ادارتی کالم سیاست کھیل تعلیم صحت ٹیکنالوجی ثقافت کاروبار
آزادی اظہار وہی ہے جو مختلف سوچ رکھنے والوں کو حاصل ہو الاربعاء, 29 جولائی 2026

’کاکروچ جنتا پارٹی‘: چیف جسٹس کا متنازع عدالتی جملہ ’جین زی‘ بغاوت کا باعث بن گیا - روزنامہ جدوجہد

’کاکروچ جنتا پارٹی‘: چیف جسٹس کا متنازع عدالتی جملہ ’جین زی‘ بغاوت کا باعث بن گیا - روزنامہ جدوجہد

لاہور(جدوجہد رپورٹ)بھارت میں متنازع عدالتی ریمارکس نے محض چند دنوں میں ایک مزاحیہ خیال کو ملک گیر ڈیجیٹل تحریک میں بدل دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت کی جانب سے نوجوانوں کو ’کاکروچ‘ اور ’پیراسائٹس‘ سے تشبیہ دینے پر جنم لینے والی ناراضی نے ”کاکروچ جنتا پارٹی“ کے نام سے ایک نئی طنزیہ سیاسی لہر پیدا کردی ہے، جو دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں انٹرنیٹ صارفین کو اپنی جانب کھینچ رہی ہے۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق بوسٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ پبلک ریلیشنز گریجویٹ ابھجیت دپکے، نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ”کیا ہو اگر سارے کاکروچ اکٹھے ہوجائیں؟“یہ طنز ہزاروں نوجوانوں کی فرسٹریشن کا ترجمان بن گیا۔ دپکے نے فوراً ”کاکروچ جنتا پارٹی“ کے نام سے ایک ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پیجز بنا دیے۔ تین دن میں انسٹا گرام فالوورز 30 لاکھ سے تجاوز کر گئے جبکہ ساڑھے3 لاکھ سے زیادہ لوگ پارٹی کا ’رکن‘ بننے کے لیے آن لائن فارم پر کر چکے ہیں۔

مزاحیہ آغاز کے باوجود معاملہ جلد ہی سنگین سیاسی اظہار میں تبدیل ہو گیا۔ ممتاز اپوزیشن رہنماماہوامویترااور سابق پارلیمنٹ ممبر کیرتی آزادسمیت کئی نمایاں شخصیات بھی اس ’پارٹی‘ میں بطور اظہار احتجاج شامل ہوگئیں۔ریٹائرڈ بیوروکریٹ آشیش جوشی نے بھی فارم بھرا اور کہا کہ ”ملک میں خوف کا ماحول ہے۔ یہ تحریک ایک تازہ ہوا کے جھونکے جیسی ہے۔“

دلچسپ بات یہ ہے کہ نوجوانوں کو ’کاکروچ‘ کہنے کی توہین آمیز کوشش نے الٹا ایک نئے استعارے کو جنم دے دیا ہے۔ لوگ اس جملے کو مزاحمت کی علامت کے طور پر اپنا رہے ہیں۔آشیش جوشی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ”کاکروچ سخت جان ہوتے ہیں، ہر نظام سے گزر جاتے ہیں۔ شاید اسی لیے یہ نظام کے اوپر بھی رینگ سکتے ہیں“۔

بھارت میں اس وقت معاشی ترقی کے باوجود بے روزگاری اور مہنگائی خوفناک سطح پر ہیں۔سالانہ 80 لاکھ سے زائد گریجویٹس پیدا کرنے والے ملک میں بے روزگاری 29.1فیصد تک پہنچ چکی ہے،جبکہ کل آبادی کا بڑا حصہ جنریشن زی پر مشتمل ہے۔ایسے میں چیف جسٹس کے الفاظ نوجوانوں کے زخموں پر نمک ثابت ہوئے۔خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک بھر میں امتحانی پیپر لیک اسکینڈل پر نوجوان پہلے ہی احتجاج کر رہے تھے۔

چیف جسٹس سوریا کانت نے بعد میں وضاحت کی کہ ان کی بات جعلی ڈگری رکھنے والے کچھ افراد کے بارے میں تھی، بھارت کے نوجوانوں کے بارے میں نہیں تھی، لیکن سوشل میڈیا پہلے ہی لاوے کی طرح پھٹ چکا تھا۔

دپکے کے بقول”جو لوگ حکومت میں ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ شہری کاکروچ ہیں، لیکن کاکروچ تو گندگی میں پیدا ہوتے ہیں،اور بھارت آج وہی بن چکا ہے۔“

خطے میں گزشتہ چند سالوں میں سری لنکا، نیپال اور بنگلادیش میں جین زی کی عوامی تحریکوں نے حکومتیں گرائی ہیں۔ بھارت کے حالات بھی نوجوانوں کے لیے بے چینی کے اسی ابھرتے بہاؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی اسی بے چینی کی ڈیجیٹل شکل بن چکی ہے، جوایک طنزیہ مگر سیاسی پیغام لیے ہوئے ہے۔

ماخذ: jeddojehad.com

تبصرے (0)

تبصرہ کریں

باخبر رہیں

تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں